سلسلہ کلمات حکمت امیر المومنین حضرت علی علیہ السّلام اور تشریح












سلسلہ کلمات حکمت امیر المومنین حضرت علی علیہ السّلام اور تشریح

انسانی جسم کے عجائبات

ترجمہ
انسان کی ساخت پر تعجب کرو کہ چربی سے دیکھتا ہے ہے گوشت سے بولتا ہے ہے ہڈی سے سنتا ہے ہے اور اس سوراخ سے سانس لیتا ہے۔

حیرت انگیز مخلوق
چربی گوشت اور ہڈی وغیرہ جیسی سی ان چیزوں کے ذریعہ بنا ہوا یہ انسان ایک عظیم اور اور مدبر و حکیم خالق کے ہاتھوں کا عظیم شاہکار ہے۔ مذکورہ ازاوج واری کیساتھ کی ان کی اہمیت پر دلالت نہیں کر رہی ہے بلکہ یہ انسان کے درک کرنے کے آلات ہیں ان ارتباطاتی وسائل و آلات کی اہمیت عظمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب ان میں سے کسی ایک کی صلاحیت کم ہو جائے یا اپنے افعال کو انجام دینے میں خلل ایجاد ہو اور قدرت و طاقت پوری طرح ختم ہو جائے۔ ان چھوٹے اور مختصر اعضاء کا کارنامہ ایک بڑے ریڈیو یا کیمرے سے بھی زیادہ عظیم ہے۔

ہم کیسے در کرتے ہیں

علماء اور دانشور حیرت زدہ ہیں کہ انسان ایک ایسی تصویر کو کیسے درک کرتا ہے اور ان کا تجزیہ و تحلیل کرتا ہے جو آنکھ کے جلد پر ظاہر ہوتی ہے ہے یا جب مختلف آوازیں اور پر شور لہریں کان کے پردے پر اثرانداز ہوتی ہیں تو کیسے ان آوازوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے اور سمجھ جاتا ہے کہ وہ کیا ہیں اور کیا کہہ رہی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ انسان کا جسم مصمم ارادے کے بغیر خواب اور بیداری کی حالت میں بدن تک ہوا پہنچانے کا کام انجام دے سکتا ہے۔ علماء نے آواز و اقوال کے اعتبار سے تصویروں اور آوازوں اور مغز کے تحولات و تغیرات کو بدن کے اعصابی سسٹم کے وسیلے سے جانا ہے ہے لیکن پھر بھی اس کی کیفیت ابھی تک معین و مشخص نہیں ہو پائی ہے ہے اس کے باوجود علماء اور دانشوروں نے اس نکتے کو تسلیم کیا ہے کہ یہ چربی گوشت اور ہڈی نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ہی بولتے ہیں بلکہ یہ صرف دیکھنے بولنے اور سننے کے ذرائع ہیں اور جو چیز دیکھتی ہے سنتی ہے اور تکلم کی صلاحیت رکھتی ہے وہ انسان کی روح اور اس کا مغز ہے۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post