مظلومیت ابوالفضل عباس علمدار علیہ السلام










مظلومیت ابوالفضل عباس علمدار علیہ السلام









ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺣﺮﻡ ﻣﻮﻻ ﻏﺎﺯﯼ ﻋﺒﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻣﯿﮟ ایک عالم دین ﻣﺠﻠﺲ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﯿﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺣﺮﻡ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﺧﻄﯿﺐ ﺟﻤﻌﮧ ﺗﮭﮯ

عالم دین ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻣﺼﺎﺋﺐ ابوالفضل ﻋﺒﺎﺱ  علمدار ع ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ که ﻏﺎﺯﯼ ﻋﺒﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ  جب ﻓﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ بھر کر خیام حسینی میں واپس آ رہے تھے تو ﻏﺎﺯﯼ عباس علمدار ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺗﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺋﯽ کہ ﺟﺲ ﻧﮯ عباس علمدار ع ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .
ﺍﻭﺭ جب تیروں کی بارش ہو رہی تھی تو اسی وقت ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺮ عباس علمدار ع ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ۔
عباس علمدار ع نے آنکھ سے تیر نکالنے کی کوشش کی لیکن غازی عباس ع ﺳﮯ ﻭﮦ ﺗﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﮞ کہ عباس علمدار ع  ﮐﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮐﭧ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺗﯿﺮ ﮐﯿﺴﮯ نکالتے ؟

ﯾﮧ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺆﻣﻨﯿﻦ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ گریہ کیا ۔

ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﯿﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ جو کہ خطیب جمعہ تھے ، انہوں نے عالم دین ﺳﮯ ﻣﺠﻠﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﺎ کہ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﺨﺖ ﺭﻭﺍﯾﺖ نہ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﯾﮟ کہ بعد میں ﮨﻢ ﮐﻮ کتابوں سے روایات ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﻮ ۔ ایک ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺌﯽ ﺳﻮ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ پهر ﺟﺎ ﮐﺮ روایت ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ۔

ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ سید ابراہیم جب ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﺣﺮﻡ مبارک  ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ اس عالم دین ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﯿﺎ جس نے رات کو مصائب ابوالفضل عباس علمدار علیہ السلام بیان کئے تھے،  ﺍﻭﺭ عالم دین ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ کہ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ دیں ، ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﻮ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﻮﻻ ﻋﺒﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ۔

عالم دین ﻧﮯ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ سید ابراہیم سے پوچھا که رات کو ﮐﯿﺎ ہوا کہ آپ صبح سویرے مجھ سے معافی مانگنے آگئے ہیں؟

ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ سید ابراہیم ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﯾﺎ ﺗﻮ باب الحوائج ابوالفضل ﻋﺒﺎﺱ علمدار ع ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ کہ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺧﻄﯿﺐ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﺳﮯ نہ ﺭﻭﮐﺎ ﮐﺮﻭ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﻻ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﻣﻮﻻ پهر ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ہی ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ دیں

ﺗﻮ عباس علمدار ع ﻧﮯ کہا کہ ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ تھا ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ تو ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ کٹے ہوئے ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ نکالنے ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ کٹے ہوئے بازو ﺁﻧﮑﮫ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ۔
ﭘِﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﯿﺮ ﮐﻮ اپنے سر کو ﺟﮭﭩﮏ ﮐﺮ نکالنے ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺗﻮ پھر بھی تیر آنکھ سے ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻼ -

ﭘِﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اپنی ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺗﯿﺮ ﮐﻮ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻧﮑﺎلنے ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺍ ہی ﺗﮭﺎ کہ ﺳَﺮ ﭘﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﻧﮯ اتنا شدید ﻭﺍﺭ ﮐﯿﺎ کہ میں ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ مگر تیر نہ نکال سکا ۔ ۔ ۔

12 محرم الحرام کو عرب میں بلخصوص عراق میں کربلا والوں کی لاش مبارک کو دفن کرنے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے جب بنی اسد نے سہمے ہوئے میدان کربلا میں آئے اور شہداء کربلا کے لاشے دفن کرنا شروع کر دئیے لیکن فرات کے کنارے پڑی ہوئی لاش مبارک اور دیگر کچھ لاشوں کو دفن نہیں کر پائے ، تو دیکھا کہ ایک نورانی ہستی آ رہی ہے، جب بنی اسد نے پوچھا کہ آپ کون ہیں تو  آنے والے نے کہا کہ گھبراو نہیں،  میں یتیم امام حسین مظلوم شہید کربلا ع ، علی ابن الحسین ہوں جس کے بابا کو پیاسا شہید کیا گیا ۔

بنی اسد نے کہا کہ مولا فرات کے کنارے ایک لاش مبارک پڑی ہوئی ہے ، آپ خود اس کو جا کر دیکھیں
امام زین العابدین السجاد علیہ السلام نے فرمایا وہ میرے چچا ابوالفضل عباس علمدار علیہ السلام کی لاش مبارک ہے ۔ میں خود اس کو قبر مبارک میں اتاروں گا ، جب امام سجاد ع غازی عباس علمدار ع کی لاش کے پاس پہنچے تو چاہا کہ اٹھائیں لیکن لاش کے جس جس حصے کو ہاتھ لگاتے ، وہ حصہ جسم کے دوسرے حصے سے علیحدہ ہو جاتا -
بلند قامت غازی عباس علمدار ع کی قبر اتنی چھوٹی بنی ، جتنی چھ ماه کے علی اصغر ع کی قبر بنی تھی -

السلام علیک یا باب الحوائج ، ابوالفضل عباس علمدار علیہ السلام








Post a Comment

Previous Post Next Post