تسبیح فا طمہ زہرا کے مناقب

تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت :
تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا روایات کے آئینہ میں -
(روح عبادات - تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا)





حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب کا انکار کسی بشر کیلیئے ممکن ھی نہیں ھے ـ آپکی عزت و عظمت و منزلت کیلیئے  یہ حدیث قدسی ھی کافی ھے ـ

"لولاک لما خلقت الافلاک ولولا علی لما خلقتک ولولا فاطمہ لما خلقتما" (1) : اے میرے حبیب (ص) اگر آپ نہ ھوتے ، تو افلاک کو خلق نہ کرتا اور اگر علی (ع) نہ ھوتے تو آپکو خلق نہ کرتا ، اور اگر فاطمہ (ع) نہ ھوتیں تو آپ دونوں کو خلق نہ کرتا ـ

اس ارشاد رب العزت کے بعد کوئی ذی عقل و فہم شہزادی و مخدومہ ء کونین اور مادر حسنین علیہ السلام (ص) کے اس مقام و منزلت کا منکر نہیں ھو سکتا - جو خداوند عالم نے آپکو عطا فرمایا ھے - شاید اسی لیئے شہزادی ء دوعالم (ص) کے نام کا ورد بیماروں کیلیئے شفا اور حاجت مندوں کیلیئے در مقصود ھے ـ نیز آپکے نام سے منسوب نماز کاپڑھنا ھر درد کے درمان کا وسیلہ اور آپکی تسبیح گناھوں کی بخشش کا ذریعہ ھے -

تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا ایک ایسی مقدس عبادت ھے - جسکا اندازہ کسی عام انسان کیلیئے ممکن نہیں ھے - اسکی اھمیت اور فضیلت کو صرف خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کی لسان وحی سے ھی سمجھا جا سکتا ھے ـ اس تسبیح کے سلسلے میں وارد ھونے والی چند حدیثیں ملاحظہ ھوں ۔ اس تسبیح سے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور اپنی لخت جگر سیدہ (ص) کو یہ تسبیح تعلیم فرمائی ۔ کہ ھر نماز فریضہ کے بعد پڑھے :
۳۴ مرتبہ اللہ اکبر ، ۳۳ مرتبہ الحمد اللہ ، ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ۔
(الکافی ۳ : ۳۴۲ باب تعقیب بعد الصلاۃ و دعاء)
" اے بیٹی (ص) ! تمکو وہ چیز عطا کر رہا ھوں - جو اس دنیا اور اسمیں موجود ھر شئے سے افضل ھے ۔" جسکے بعد شہزادی نے تین مرتبہ فرمایا ۔" خدا کی قسم میں خدا اور اسکے رسول (ص) سے راضی ھوں ۔"( 2 )

تسبیح حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو اس بات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ھے کہ روایات کیمطابق قرآن مجید کے اس ارشاد" اذ کرو االلہ ذکراً کیثراً " (3) پر عمل کرنے کا بہترین ذریعہ تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کا پڑھنا ھے ـ اس سلسلے میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں ۔" جو شخص سوتے وقت تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا پڑھے ۔ اسکا شمار ، خدا کا ذکر کثیر کرنے والے مردوں اور عورتوں میں ھوگا " (4) یہی سبب ھے کہ ھر واجب نماز کے بعد تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیھا کا پڑھنا سب سے افضل تعقیب ھے ـ اسی لیئے امام (ع) دوسرے مقام پر فرماتے ھیں ۔" مجھے ھر روز ھزار رکعت نماز پڑھنے کی بہ نسبت ھر نماز کے بعد تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کا پڑھنا زیادہ پسند ھے ۔" (5)

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں :
خدا کی حمد و ثناء کیلیئے تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بڑھکر کوئی عبادت نہیں ھے - اور اگر اس سے بڑھکر کوئی عبادت ھوتی !! تو اسے رسول مقبول (ص) جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو عطا فرماتے ۔ (6)

اسی طرح امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں :
" جو کوئی نماز واجب کیبعد تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کو پڑھے - اس سے پہلے کہ وہ اپنا داھنا پیر بائیں پیر سے اٹھائے ۔ خداوند عالم اسکے گناھوں کو بخش دے گا ۔" (7)

اس تسبیح کی فضیلت کے سلسلے میں مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام یہ فرماتے ھیں : " سبحان اللہ کہنا آدھے میزان اعمال کو پر کرتا ھے ـ " الحمد للہ کہنا پورے میزان اعمال کو بھر دیتا ھے اور اللہ اکبر کہنا زمین و آسمان کے بیچ کے حصے کو پر کر دیتا ھے ۔" (8)
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :
جب کوئی تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کو پڑھکر استغفار کرتا ھے ۔ تو وہ بخش دیا جاتا ھے ۔ اس تسبیح میں سو دفعہ ذکر خدا ھے - جبکہ میزان اعمال میں ھزار ثواب رکھتی ھے ـ یہ شیطان کو دور کرتی ھے اور خدائے رحمان کو خوشنود کرتی ھے ـ (9)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
" جب کوئی واجب نماز کے بعد سلام و تشہد کی حالت میں تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کو پڑھتا ھے - تو خدا اس پر بہشت واجب کر دیتا ھے ۔" (10)

دور حاضر کا سب سے اھم مسئلہ :
معاشرہ میں بڑھتی ھوئی گمراھی ھے ـ خصوصاً والدین ، اولاد کے مستقبل سے متعلق , بچیوں کے مناسب رشتے نہ ملنے کیوجہ سے  بیپناہ فکر مند ھیں ـ جبکہ اسکا بہترین حل ٬ تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا ھے ـ اسلیئے کہ یہ تسبیح لوگوں کو برے انجام سے بچاتی ھے -

اس سلسلے میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
" اے اباہارون  ! ھم جسطرح اپنے بچوں کو نماز ، تعلیم دیتے ھیں - اسی طرح تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی سکھاتے ھیں ـ تم بھی اسکو اپنے لیئے لازم کر لو - کیونکہ اگر تسبیح کو ھمیشہ نہ پڑھا جائے تو برے انجام کا خطرہ لاحق ھوتا ھے ـ " (11)

اسی طرح تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ایک اھم فائدہ یہ ھے - کہ یہ تسبیح انسان کو اونچا سننے کے مرض سے نجات دیتی ھے ـ روایت میں ھے کہ ایک شخص امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا ۔ اور کہا :  کہ میں کم سنتا ھوں ـ امام (ع) نے فرمایا : " علیک بتسبیح فاطمہ (ع)" ۔۔۔۔۔ (تم تسبیح فاطمہ ص پڑھا کرو ) ۔۔۔ اس شخص کا بیان ھے  کہ میں نے کچھ مدت تک تسبیح فاطمہ (ع) کو پڑھا اور اونچا سننے کی شکایت دور ھو گئی ـ

روایتوں کے مطابق تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کیلیئے بہتر یہ ھے - کہ خاک شفا کے دانوں سے بنی ھو - کیونکہ صرف اسطرح کی تسبیح میں یہ خصوصیت رکھی گئی ھے - کہ اگر انسان اسے ہاتھ میں لیئے  ھو اور ذکر نہ بھی کر رہا ھو - تب بھی ثواب ملتا رھیگا ـ اس سلسلے میں امام زمانہ علیہ السلام فرماتے ھیں - جو کوئی امام حسین علیہ السلام کی خاک تربت سے بنی تسبیح کو ہاتھ میں لیئے ھو - تو اگر  ذکر کرنا بھول بھی جائے تب بھی اسے ثواب ملتا رھیگا ـ (12)

اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
تربت امام حسین علیہ السلام کی خاک سے بنی تسبیح سے ایک دفعہ ذکر یا استغفار کرنا ، دوسری چیز سے بنی تسبیح پر ۷۰ بار ذکر و استغفار کے برابر ھے ـ (13)

آخر میں خداوند کریم سے دعا ھے :
کہ خداوندا !! ھمیں علوم اہل بیت علیہم السلام سے سرشار فرما - اور ان مقدس ذوات کے نقش قدم پرچل کر دنیا و آخرت کی سعادت سے ھمکنار ھونے کی توفیق عنایت فرما - اور اے پاک پروردگار !! اس تحریر کو میرے لیئے ضامن نجات قرار دے - (آمین - ثم آمین) مومنین و مومنات بہن بھائیوں سے دعاؤں میں یاد رکھنے کی اپیل - پاک پروردگار اسی تسبیح کے صدقے میں ھم سب پہ اپنے فضل و کرم کی بارش فرما دے - آلہی آمین -

حوالہ جات کی تفصیل :
1. کشف اللآلی ـ
2. من لایحضرہ الفقیہ ٬ ص۲۱۱ ـ
3. سورہ احزاب : ۴۱ ـ
4. سفینة البحار ٬ ج ۱ ص ۵۹۳ ـ
5. فروع کافی ، کتاب الصلاة ص ۳۴۳ ـ
6. وسائل الشیعہ ، ج۲ ص ۱۰۲۴ ـ
7. تہذیب الاحکام ج۲ ، ص ۱۰۵ ـ
8 . اصول کافی ج۲ ص ۵۰۶ ـ
9. وسائل الشیعہ ج۴ ص ۱۰۲۳ ـ
10. فلاح السائل ص ۱۶۵ ـ
11. فروع کافی ، کتاب الصلوة ص ۳۴۳ ـ
12. وسائل الشیعہ ج۴ ص ۱۰۳۳ ـ
13. ایضا

🔹 امام۔جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

🔹من سبح تسبیح فاطمة الزهراء علیهاالسلام قبل ان یثنى رجلیه من صلاة الفریضه ، غفر اللَّه له و يبدأ بالتكبير ۔

جو بھی واجب نماز ختم کرنے کے بعد , پیروں کو حرکت دینے سے (یعنی ایک پہلو سے دوسرے پہلو کو بدلنے سے) پہلے , حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کی تسبیح پڑھیگا ۔ تو اللہ تعالی اسکے گناہوں کو بخش دیگا ۔ پہلا ذکر , جس سے تسبیح شروع ھوتی ھے ۔
وہ اللہ اکبر ھے ۔۔۔۔۔ !!

حوالہ جات :
📚 کشف الغمہ جلد 1 صفہہ471 ۔
📚 کافی جلد 3 صفہہ 342 ۔
📚 ثواب الاعمال صفہہ 164 ۔
📚 تہذیب الاحکام جلد 2 صفہہ 105 ۔

ترتیب و پیشکش :
سید فاخر حسین رضوی -

Post a Comment

Previous Post Next Post