سورةالمائدہ تفسیرالقرآن۔پوسٹ#140

 تفسیرالقرآن۔پوسٹ#140


*سورةالمائدہ*

●﷽●

*اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لِیَفۡتَدُوۡا بِہٖ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡہُمۡ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۳۶﴾*


۳۶۔ جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اگر ان کے پاس زمین کے تمام خزانے ہوں اور اسی کے برابر مزید بھی ہوں اور وہ یہ سب کچھ روز قیامت کے عذاب کے بدلے میں فدیہ میں دینا چاہیں تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔


36۔ یعنی اگر تقویٰ نہ ہو اور وسیلہ کی تلاش بھی نہ ہو اورجہاد بھی نہ ہو تو عذاب عظیم سے بچنے کی کوئی اور صورت نہیں ہے۔ سب سے زیادہ متبادل حل یہ ہو سکتا ہے کہ تقویٰ اور وسیلہ کی جگہ پوری دنیا کی دولت اس کے پاس ہو اور اس مقدار کی مزید دولت اس کے پاس آ جائے جس کے ذریعہ وہ عذاب کو ٹالنے کی کوشش کرے تو بھی ممکن نہیں ہے۔


*یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ﴿۳۷﴾*


۳۷۔وہ آتش جہنم سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نکل نہ سکیں گے اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے ۔


*وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ﴿۳۸﴾*


۳۸۔ اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، ان کی کرتوت کے بدلے اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر اور اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔


38۔حدیث ہے: حرمۃ مال المسلم کحرمۃ دمہ (بحار الانوار 29:407) مال مسلم کو وہی حرمت حاصل ہے جو خون مسلم کو ہے۔ چنانچہ اسلام نے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون وضع کیے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کے لیے درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے: 1۔ چوری قحط اور بھوک کی وجہ سے نہ ہو۔ 2۔ چوری محفوظ جگہ سے کی گئی ہو۔ 3۔ چوری کرنے والا عاقل ہو۔ 4۔ بالغ ہو۔ 5۔ مال غلط فہمی کی بنا پر نہ اٹھایا گیا ہو۔ 6۔ مال مشترکہ نہ ہو۔ 7۔ باپ بیٹے کا مال نہ ہو۔ 8۔ اعلانیہ طور پر نہ اٹھایا گیا ہو۔ جس مالی نصاب پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے وہ فقہ جعفری کے مطابق ایک چوتھائی دینار ہے۔ امام مالک، شافعی اور حنبل کا بھی یہی نظریہ ہے۔ فقہ جعفری کے مطابق چار انگلیاں جڑ سے کاٹی جائیں گی، جبکہ اہل سنت کے نزدیک ہاتھ کلائی سے کاٹا جاتا ہے۔ اصمعی اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں: میں نے اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے غفور رحیم پڑھ دیا تو ایک عرب بدو نے کہا کہ یہ کس کا کلام ہے؟ میں نے کہا اللہ کا۔ بولا: پھر پڑھو۔ میں نے پھر غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ پڑھا۔ پھر میں متوجہ ہوا کہ غلط پڑھ رہا ہوں اور جب میں نے پڑھا: وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ تو بدو نے کہا: اب درست پڑھا ہے۔ میں نے پوچھا: تم نے کیسے سمجھا؟ کہا : اللہ عزیز و حکیم ہے تو ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اگر غفور و رحیم کا ذکر آتا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم نہ دیتا۔ ایک بدو بھی جانتا ہے کہ اللہ کی حکمت و قہاریت کے تقاضے اور ہیں جبکہ مغفرت و رحمت کے تقاضے اور۔ مغربی دنیا والے اپنے مفادات کے لیے دنیا میں لاکھوں انسانوں کا سینہ چھلنی کر دیتے ہیں اور ہاتھ کاٹنے کی سزا کو غیر انسانی کہتے ہیں۔ اس سزا سے بیشمار لوگ ناقص العضو نہیں ہوں گے، کیونکہ تاریخ اسلام میں اسلامی حکومت کی چار صدیوں میں صرف چھ بار ہاتھ کاٹنے کی نوبت آئی ہے۔ (قاموس قرآن)


*فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۳۹﴾*


۳۹۔ پس جو شخص اپنی زیادتی کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو اللہ یقینا اس کی توبہ قبول کرے گا، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔


*اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۴۰﴾*


۴۰۔ کیا تجھے علم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں سلطنت اللہ کے لیے ہے؟ وہ جسے چاہے عذاب دیتا ہے اور جسے چاہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔


*تفسیر بحوالہ۔بلاغ القرآن۔حضرت سماحة الشیخ مولانا محسن علی نجفی۔جامعةالکوثر اسلام آباد*

▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓


*نوٹ!*

اپنے بچوں کو *تعلیمات محمدؐ آل محمد ؑ،*

*قرآن مجید٬*

*اخلاقیات٬*

*عقائد*

اور *فقہی مسائل*

سےاستفادہ کےلیے ہم سےرابطہ کریں۔شکریہ

💫 *الھدایت آن لائن قرآن اکیڈمی قم المقدّسہ* 💫

ملتمس دعا

*آغانذرعباس مختارثقفی قمی*

*00989035946278*

*محمداحمدفاطمی النجفی*

*00923416152520*

صدقہ جاریہ کےلیےسب دوستوں کو شئیرکریں

*جزاکم اللہ بالخیر*

Post a Comment

Previous Post Next Post